Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Is Se Kya - Parveen Shakir

Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Is Se Kya

Poet: Parveen Shakir

Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Is Se Kya - Parveen Shakir
Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Is Se Kya

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا 
بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا 

تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو 
کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا 

اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ 
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا 

ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض 
سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا 

لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو 
تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا 

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے 
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا 

Ghazal in detail with images visit

#dard_poetry_by_parveen_shakir  #beperwa_muhabat_parveen_shakir

Post a Comment

0 Comments